محنت کا معاوضہ

*محنت کا معاوضہ*
قرآن کریم کی روشنی میں سب سے اہم سوال محنت کرنے والے کی محنت کا معاوضہ کا ہے۔اگر اس کو محنت کا پورا پورا معاوضہ نہ دیا جائے تو جو کچھ اس میں غصب کیا جائے وہ اس کے لئے حلال نہیں ہوگا۔ اللہ عزوجل نے موسی علیہ السلام اور فرعون کی آویزش کے سلسلے میں کہا ہے کہ فرعون دوسروں کی محنت غصب کر لیا کرتا تھا ،اس لئے حضرت موسی علیہ السلام سے کہا گیا کہ اس کے مستبد اور ظالم نظام کو الٹ کر اس کی جگہ نظام خداوندی قائم کریں ،تاکہ ہر ایک کو اس کی محنت کا پورا کا پورا کا پورا معاوضہ مل سکے اللہ عزوجل قران پاک میں ارشاد فرماتا ہے *فلایخاف ظلماو لا ھضما*  
یعنی اور کسی کو اس کا خطرہ نہ رہے کہ اس کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوگی اور اس کی محنت کے معاوضہ کو ہضم کرلیا جائے گا ۔
سرمایہ داری میں یہ ناممکن ہے کہ محنت کرنے والے اس کی محنت کا پورا پورا معاوضہ دیا جا سکے ۔ اس میں محنت کرنے والے کو اجرت پر ملازم رکھا جاتا ہے مزدور اپنی اجرت مقرر نہیں کرتا بلکہ اسے ملازم رکھنے والا مقرر کرتا ہے ۔ اس معاملہ کو یہ کہہ  کر برحق قرار دے دیا جاتا ہے کہ مزدور اپنی رضا مندی سے اجرت منظور کرتا ہے ،اس لئے اس پر کوئی ظلم و زیادتی نہیں ہوتی ۔لیکن خریدار اپنی رضا مندی سے قیمت ادا کرتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے خریدار ہو یا  مزدور دونوں اپنی مجبوری سے دوسرے کی بات مان لیتے ہیں ۔ جس سے مزدور کے گھر میں کھانے کا ہو وہ کبھی آجر کی نا مناسب شرائط کے کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا اس کی معاشی مجبوریاں ہوتی ہیں جو وہ شرط پر کام کرنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے قرآن کے معاشی نظام میں اجرتوں کا سوال ہی نہیں ہوتا مملکت معاشرے کے تمام افراد کی ضروریاتِ زندگی پورا کرنے کی ذمہ داری اپنے اوپر لیتی ہے ۔ لیکن یہ اس وقت کی بات ہے جب اور جہاں قرانی نظام رائج ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ موجودہ حالت ميں کیا کیاجاے ؟ 
اس کا جواب یہ ہے کہ مملکت ایسا طریق وضع کرے جس سے محنت کش کی محنت غصب نہ کی جا سکے ہم تو آجر سے اتنا ہی کہ سکتے ہیں کہ مزدور کی محنت سے جو کچھ بھی غصب کیا جاے تو وہ کمائی حلال نہیں ہے ۔
*کام چور* قرآن کریم جہاں آجر کو اس کی تاکید کرتا ہے کہ وہ مستاجر کی محنت کو غصب نہ کرے وہیں مزدور سے بھی کہتا ہے وہ صرف اپنی محنت کا معاوضہ لینے کا حقدار ہے اگر محنت کیے بغیر معاوضہ کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ معاوضہ بھی حلال نہیں ہوگا،
*لیس للانسان الا ما سعی* اس کا بنیادی اصول ہے۔ یعنی انسان صرف اپنی محنت کے معاوضہ کا حقدار ہے،کام  چور کی کمائی حلال کی نہیں کہلا سکتی ہے جو کچھ آجر اور مستاجر کے متعلق کہا گیا ، اس کا اطلاق ملازمت ، پیشہ کرنے والے حضرات پر یکساں ہوتا ہے وہ بھی اجرت پر کام کرتے ہیں جسے تنخواہ کہا جاتا ہے ۔
اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولی ہم سب کو مزدوروں کی مزدوری دینے کی توفیق عطاء فرما امین یا رب العالمین
از قلم ۔ مفتی محمد ضیاءالحق قادری فیض آبادی

Popular posts from this blog

غدار وطن اس کو بتاتے ہیں برہمن

فتاویٰ نمبر 1

گستاخِ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سزا قرآن و حدیث کی روشنی میں