فتاویٰ نمبر 1
کیا فر ما تے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ کیا کافر کے یہاں تلاوت کر سکتے ہیں وضاحت کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں
سا ئل فا طمہ خان
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھداية الحق والصواب
وعلیکم السلام ورحمتہ الله و برکاتہ
کافر کے مکان پر قرآن کی تلاوت کرنا جائز و درست ہے، بشرطیکہ وہاں ان کے دیوی دیوتاؤں کی تصویریں نہ ہو، اور نہ ہی کسی جاندار کی تصویر ہو۔
نائب مفتی اعظم ہند حضور شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں؛
یہاں (ہندوستان) اس زمانے میں ہندوؤں کے گھر کسی مباح کام کے لئے جانے کی اجازت ہے تمام مسلمانوں کا اس پر عمل درآمد ہے، اس لئے کسی ہندو کے گھر جاکر قرآن مجید پڑھنا جائز و درست ہے جبکہ ہندو کے اس گھر میں جس میں قرآن خوانی ہوئی ہے نہ ہی کسی دیوتاؤں کی تصویریں ہو نہ ہی کسی جاندار کی تصویر ہو
*(فتاوی شارح بجاری جلد دوم صفحہ ٥٥٠/ ٥٥١)*
صورت مستفسرہ میں اس بات کا لحاظ رہے کہ اگر کافر کے گھر میں تلاوت کرے تو کسی جائز کام کے لئے ہو حرام کام کے لئے نہ ہو، ۔اور وہاں تلاوت قرآن سے نیت یہ ہونی چاہیئے کہ اللّٰہ رب العالمین اس کے ذریعہ اسے ہدایت و اسلام کی توفیق دے، اس کے لئے برکت کی دعا نہ کرے۔ اور اگر وہاں جانے سے اختلاف وانتشار کا اندیشہ ہو تو ہرگز نہ جائے۔
واللہ تعالی اعلم باالصواب
کتبہ محمد ضیاءالحق قادری فیض آبادی