غدار وطن اس کو بتاتے ہیں برہمن

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 
*غدار وطن اس کو بتاتے ہیں برہمن*
*انگریز سمجھتا ہے مسلماں کو گداگر*
اس شعر میں علامہ اقبال صاحب نے ہندی مسلمانوں کی حالت کا نقشہ کھینچا ہے اگر چہ  یہ شعر عہد حاضر سے 88 سال پہلے کہا تھا لیکن یہ شعر آج کے مسلمانوں کے حالات پر بالکلیہ صادق آ رہا ہے 
ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ برہمن  (براہمن ہندوؤں کی اونچی ذات کا نام ہے۔ ) تو  مسلمان کو غدار وطن گردانتے ہیں، ان کی سوچ تو یہ ہے کہ مسلمان اپنے زندگی کے شب و روز کو ہندوستان میں بسر کرتا ہے لیکن محبت عرب سے کرتا ہے یہ بات وطن پرستی کی رو سے وہ جرم عظیم ہے جس کی معافی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے ۔
ہندی مسلمان کا ان کے نزدیک دوسرا قصور یہ ہے کہ اپنی قومیت کی بنیاد وطن پر نہیں رکھتا ، جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تم کون ہو ، تو وہ یہ نہیں کہتا کہ میں ہندی ہوں بلکہ بے ساختہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں ۔
تیسرا قصور یہ ہے کہ وہ اپنی پیاس بجھاتا ہے گنگا و جمنا سے پھل کھاتا ہے ان درختوں کے جو ہندوستان کی مٹی سے اگتے ہیں
لیکن نام عربی رکھتا ہے زبان بولتا ہے تو بدیشی لباس پہنتا ہے تو وہ بھی بدیشی ۔ کاشی، متھرا ،ایودھیا ، پریاگ کو آنکھوں سے دیکھتا ہے بلکہ ان شہروں میں اپنی زندگی گزارتا ہے لیکن ٹس سے مس نہیں ہوتا ۔
مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کا صرف نام سن لے تو تڑپ جاتا ہے  عشق اتنا ہے جو لوگ وہاں کی زیارت کر کے آتے ہیں ان کے ہاتھوں کو چوم کر دل کو خوش کر لیتا ہے ۔ لھذا اس کی غداری میں کیا شک ہو سکتا ہے ۔
اب رہے انگریز تو مسلمان کو گداگر سمجھتے ہیں کیونکہ نہ اس قوم کے پاس اس وقت تعلم کی دولت ہے نہ ہی فہم و فراست کی نعمت نہ دور دور تک تجارت سے کوئی واسطہ نہ ہی دولت کا سہرا ان کے سر پر نہ ہی اس نے اتحاد کو گلے لگایا ہمدردی تو ایسا لگتا ہے ان خمیرہ سے نکل گئی اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ رفاقت کا انھوں نے جنازہ پڑھ کر دفنا دیا ہے ۔  جب وہ دیکھتے ہیں کہ اس قوم کے وہ افراد جو دولت کا‌ تاج سر پر سجا کر عیاشی کر رہے ہیں اقتدار کے ایوانوں میں جن کی طوطی بولتی ہے الا ماشاء اللہ دین سے یتیم ہو گئے اور انگریزوں کی نقالی میں مست و مگن ہو گئے ہیں ۔ جاگیر دار صف اول کے ضمیر فروش اور خطابات کے دلدادہ ہو گئے ہیں ۔ پروفیسر تو ہمارے افکار و خیالات کی فی الحقیقت گدائی کر رہے ہیں اب رہے اہل اقتدار تو بقول شاعر خوش فکر اکبر الہ آبادی 
*دفع دل سے اثر یاس کیا کرتے ہیں*
*ریز دلیوشن ہی فقط پاس کیا کرتے ہیں*
جب دیکھو تو اپنے کالجوں اور درسگاہوں کی امداد کے لئے کاسئہ گدائی لے کر ہماری خدمت عالی جاہ میں حاضر ہوتے رہتے ہیں اور ایڈریس کے پردہ میں ملبوس ہم سے دست سوال رہتے ہیں ۔
از ۔ 
مفتی محمد ضیاءالحق قادری فیض آبادی

Popular posts from this blog

فتاویٰ نمبر 1

گستاخِ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سزا قرآن و حدیث کی روشنی میں