مقام ذکر کمالات رومی و عطار

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 
*مقام ذکر کمالات رومی و عطار*
*مقام فکر مقالات بو علی سینا*
جب مومن مقام ذکر پر فائز ہوتا ہے ، تو رومی اور عطار بن جاتا ہے ۔ یعنی روحانیت میں بلند مرتبہ حاصل کر لیتا ہے ۔ اور جب آدمی مقام فکر تک پہنچ جاتاہے ۔ تو بوعلی سینا بن جاتا ہے ۔ 
اس شعر میں مقالات بوعلی سینا سے مراد ان کی فلسفیانہ مضامین و تصانیف ہیں ۔ رومی سے مراد شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال صاحب کے روحانی مرشد برحق شیخ المشائخ حضرت قبلہ جلال‌الدین رومی علیہ الرحمہ کی ذات بابرکات ہے ۔ جن کی مثنوی حقائق و معارف کا ایک زبردست خزانہ ہے ۔ چنانچہ علامہ اقبال صاحب فرماتے ہیں اگر چہ فقیر نے یورپ کا سارا فلسفہ پڑھا ہے لیکن فائدہ فقیر کو دو ہی کتابوں سے حاصل ہوا ۔ 
 
(١) *قرآن و حدیث* 
(٢) *مثنوی*
حضرت قبلہ عالم شیخ فرید الدین عطار علیہ الرحمہ کی مثنوی *منطق الطیر* بہت مشہور ہوئی۔آپ علیہ الرحمہ اسلامی تصوف کے بہت بڑے ماہر ہیں ۔ 
آپ کی شان بابرکات میں شیخ المشائخ حضرت اقدس مولانا رومی علیہ الرحمہ کچھ اس طرح رقمطراز ہوتے ہیں۔

*عطار روح بود وسنائی دو چشم او*
*ما از پئے سنائی و عطار آمدیم*
علامہ نے ان مشائخ کی تصانیف سے اکتساب فیض کیا تھا اور یہی وجہ ہے علامہ کے کلام میں جابجا تصوف کا رنگ جھلکتا ہے اور علامہ کی بعض تصانیف میں تو یہ رنگ بہت ہی نمایاں ہے ۔
طالب دعا ۔ محمد ضیاءالحق قادری
خادم دارالعلوم کلیتہ القرآن

Popular posts from this blog

غدار وطن اس کو بتاتے ہیں برہمن

فتاویٰ نمبر 1

گستاخِ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سزا قرآن و حدیث کی روشنی میں