فتاویٰ نمبر 3
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
تمام علماء کرام کی بارگاہ میں ایک درخواست ہے
سوال۔ مسجد میں اور ممبر رسول پر بیٹھ کر پان ،گٹکا،نشہ والی چیز کو کھانا کیساہے؟
اور اس طرح کی حرکت کرنے والے کے اوپر کیا حکم ہوگا؟
مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی
سائل محمد مشفق رضا مرادآباد یوپی انڈیا
الجواب بعون الملك الوهاب اللهم هداية الحق و الصواب
مساجد میں یا منابر رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر بیٹھ کر پان ، گٹکا کھاناسخت منع ہے
حدیث شریف میں ہے عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلاَ يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلاَ يُؤْذِيَنَّا بِرِيحِ الثُّومِ ». ترجمہ :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اس درخت سے کھائے وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور لہسن کی بو سے ہم کو تکلیف نہ پہنچائے
صحیح مسلم ج ۱ باب نھی من اکل ثومااو بصلا اوکراثا اونحوھا ،ص ۲۰۹، حدیث نمبر: ۱۲۷
جامع ترمذی ج ۲ص ۳میں حدیث شریف ہے : حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا،یارسول اللہ ! کیا لہسن حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں (وہ حرام نہیں ہے ) لیکن میں اس کی بو کی وجہ سے اسے ناپسند کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ « لاَ وَلَكِنِّى أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ »
جامع ترمذی ج ۲باب ماجاء فی کراھیة اکل الثوم والبصل ،ص ۳،حدیث نمبر: ۱۹۲۰
لہسن پیاز وغیرہ کا استعمال گو کہ فی نفسہ مکروہ نہیں ہے تاہم اس کے استعمال کے بعد منہ سے بو آرہی ہو تو مسجد میں جانا مکروہ قرار دیا گیا ہے ۔ چوں کہ گٹکا اور سگریٹ کا استعمال اس کی کراہت والی بو کے سبب اور صحت کے لئے ضرررساں ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے ۔ اس لئے گٹکا ‘ سگریٹ ‘ تمباکو ‘ زردہ کا استعمال بطور خاص مسجدوں کی حاضری کے موقع پر حد درجہ مکروہ ہے تو چہ جائے کہ مسجد میں بیٹھ کر پان یا گٹکا کھایاجائے
ایسا کرنا آداب مسجد و ممبر رسول کے خلاف ہے اور یہ جائز نہیں ۔
لھذا ایسے شخص کو چاہئے کہ آداب مسجد کا خیال کرتے ہوئے آئندہ ایسی حرکت سے اجتناب کرے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد ضیاءالحق قادری فیض آبادی