فتاویٰ نمبر 2
- Get link
- X
- Other Apps
السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ
امید ہے کہ خیر وخیریت سے ہوں گے
حضور
ایک قریبی دوست جن کا نام محمد مصطفےٰ میا (چولی ہار) جو کہ گودار گاؤں ضلع دھنوشا جنکپور پردیش نمبر ٢ کے رہنے والے ہے
حال مقیم: دوحہ قطر
اُن کایہ مسئلہ ہے
وہ یہ کہ لگ بھگ 10 سنی مسلمان کافروں کی آبادی والے چھوٹا سا ٹولہ یعنی (محلہ) میں رہتے ہیں اور ذیادہ تر کافروں کی باتوں پر عمل درآمد ہوتا ہے اس لیے دھیرے دھیرے ایک ایک کر کے مسلمان دوسرے بڑے آبادی والے مسلم ٹولہ محلہ میں چلے گئے۔ تاکہ ہر چیز کے لئے آسانی ہو اب
جوگدار گاؤں کی زمین جو کہ بنام مصلہ قائم کیا گیا تھا ،، (١٠ دس دھور) مطلب بغیر چھت و بغیر منارہ نماز خانہ (مسجد) ہے جس میں نمازِ باجماعت و جمعہ و تراویح اور مکتب کی شکل میں بھی کام لیا جاتا رہا۔۔۔
اب کئی دنوں سے وہاں نہ تو نماز کے لیے کوئی جاتا ہے نہ امام موجود ہے
وہ اس لئے کہ پہلے پنجوقتہ نماز کو محلہ والے نے ادا کرنا چھوڑ دیا بعد میں جمعہ۔ اور ناہی بچے مکتب میں آتے اب وہ زمین ویران پڑی ہے ۔ اب وہ زمین کو مسلمانوں نے کافروں سے فروخت کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور قیمت بھی منظور کر لی گئی ہیں
(NRP پندرہ لاکھ نیپالی1500000)
کئی دنوں کے بعد محلہ والوں نے ( محمد مصطفےٰ میا چولی ہار)کو فون کیا محلہ دار ہونے کے ناطے جو (قطر 🇶🇦) میں رہتا ہے اس کو پورا ماجرا بتایا ۔۔۔ تب محمد مصطفےٰ میا نے کہا کہ آپ لوگ یہ زمین کو کافروں سے مت بیچو بلکہ وہ جگہ مجھے وہی قیمت میں دے دوں۔۔۔۔۔ اگر آپ کافر کو یہ زمین بیچتے ہیں تو یہ بھی جان لیجئے کہ بعد میں نہ جانے کیا کیا خرافات یا کفریہ کلمات یہ کافر لوگ (یہ پاک دامن زمین (مسجد) میں فسادات کرے گا)
اگر میں یہاں رہنے لگو تو بعد میں مسلم آبادی بڑھنے لگے
تو کیا۔ اب وہ شخص وہ زمین
جو کہ محلہ والوں نے مل کر کافروں سے بیچنے کا ایک راستہ ہموار کیا تھا اب وہ زمین ایک مسلم شخص لینا چاہتا ہے وہ بھی اپنے گھر بنانے کے لئے۔۔۔۔۔
کیا وہ زمین خرید سکتا ہے؟
جواب عنایت فرمائیں
جزاک اللہ خیراً کثیرا
28/01/2021
جواب کا منتظر
حافظ و قاری : گلاب حسن صدیقی
مقام: بسبٹی: رام گوپال پور نگرپالیکا١ : مہوتری: جنکپور پردیش نمبر ٢:نیپال 🇳🇵
حال مقیم: دوحہ قطر 🇶🇦
الجواب بعون الملك الوهاب اللهم هداية الحق و الصواب
و علیکم السلام ورحمتہ الله وبرکاتہ
الحمدللہ رب العالمین
سوال کے جواب سے قبل چند امور کی تفصیل ضروری ہے جس سے اصل مسئلہ کا حکم خوب واضح ہو جائے گا *فاقول و بالله التوفيق*
عبادت خانہ کسی بھی عبادت کی جگہ کو کہتے ہیں، یہ عام ہے، مسجد بھی ہوسکتی ہے اور مسجد کے علاوہ کوئی اور جگہ جو عبادت کے لیے مختص کی گئی ہو وہ بھی ہوسکتا ہے۔
جب کہ مسجد شرعی اس کو کہتے ہیں جسے واقف نے باقاعدہ الگ کرکے وقف کردیا ہو، اور اس کی حد بندی کردی ہو اور اسے خاص نماز پڑھنے کے لیے مختص کردیا ہو اس طور پر کہ بندوں کا حق اس سے متعلق نہ رہے، تو ایسا کرنے کے بعد وہ جگہ تحت الثریٰ سے ثریا تک یعنی زمین سے آسمان تک مسجدہوجاتی ہے، اس کے کسی حصہ کو نماز اور اس کےمتعلقہ امور کے علاوہ دوسرے کام میں استعمال کرنا جائز نہیں ہوتا۔
جب کہ عبادت خانہ کے لیے نہ وقف ہونا ضروری ہے اور نہ ہی اس کے تمام احکام مسجد والے ہیں، بلکہ عبادت خانہ لغوی اعتبار سے عام ہے، یعنی اہلِ حق کی عبادت گاہ ہو، یا اہلِ باطل کی، اسے عبادت کرنے والوں کی نسبت سے خاص کرکے ان کا عبادت خانہ کہا جاسکتاہے، جب کہ ’’مسجد‘‘ ایک شرعی اصطلاح بن گئی ہے، جسے صرف مسلمان استعمال کرتے ہیں، لہٰذا از روئے قانون بھی ’’مسجد‘‘ کی اصطلاح صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ کے لیے مخصوص ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ويزول ملكه عن المسجد والمصلى) بالفعل و (بقوله جعلته مسجدا) عند الثاني (وشرط محمد) والإمام (الصلاة فيه)
(قوله: وشرط محمد والإمام الصلاة فيه) أي مع الإفراز كما علمته واعلم أن الوقف إنما احتيج في لزومه إلى القضاء عند الإمام؛ لأن لفظه لا ينبئ عن الإخراج عن الملك، بل عن الإبقاء فيه، لتحصل الغلة على ملكه، فيتصدق بها بخلاف قوله: جعلته مسجدًا، فإنه لاينبئ عن ذلك ليحتاج إلى القضاء بزواله، فإذا أذن بالصلاة فيه، قضى العرف بزواله عن ملكه، ومقتضى هذا أنه لايحتاج إلى قوله وقفت ونحوه وهو كذلك وأنه لو قال وقفته مسجدًا، ولم يأذن بالصلاة فيه ولم يصل فيه أحد أنه لايصير مسجدًا بلا حكم وهو بعيد، كذا في الفتح ملخصًا. ولقائل أن يقول: إذا قال: جعلته مسجدًا فالعرف قاض، وماض بزواله عن ملكه أيضًا غير متوقف على القضاء، وهذا هو الذي ينبغي أن لايتردد فيه، نهر.
قلت: يلزم على هذا أن يكتفى فيه بالقول عنده، وهو خلاف صريح كلامهم، تأمل ، وفي الدر المنتقى: وقدم في التنوير والدرر والوقاية وغيرها قول أبي يوسف، وعلمت أرجحيته في الوقف والقضاء. اهـ". (4/ 355، کتاب الوقف، ط: سعید)
البحر الرائق میں ہے:
"حاصله أن شرط كونه مسجدًا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه؛ لقوله تعالى: {وأن المساجد لله} [الجن: 18] بخلاف ما إذا كان السرداب أو العلو موقوفًا لمصالح المسجد فإنه يجوز؛ إذ لا ملك فيه لأحد بل هو من تتميم مصالح المسجد فهو كسرداب مسجد بيت المقدس، هذا هو ظاهر المذهب، و هناك روايات ضعيفة مذكورة في الهداية، وبما ذكرناه علم أنه لو بنى بيتًا على سطح المسجد لسكنى الإمام فإنه لايضر في كونه مسجداً؛ لأنه من المصالح.
فإن قلت: لو جعل مسجدًا ثم أراد أن يبني فوقه بيتًا للإمام أو غيره هل له ذلك؟ قلت: قال في التتارخانية: إذا بنى مسجدًا وبنى غرفةً وهو في يده فله ذلك، وإن كان حين بناه خلى بينه وبين الناس، ثم جاء بعد ذلك يبني لايتركه. وفي جامع الفتوى: إذا قال: عنيت ذلك فإنه لايصدق. اهـ". (5/ 271، کتاب الوقف، فصل فی احکام المسجد، ط: دارالکتاب
لھذا مذکورہ بالا حکم سے یہ صاف ظاہر ہے کہ اگر کسی نے اپنی زمین کو عبادت کے لئے دیا تھا وقف نہیں کیا تھا تو وہ اپنی زمین کو فروخت کر سکتا ہے اس سے شرعا کوئی مواخذہ نہیں ہوگا لیکن اگر واقف نے اپنی زمین کو مسجد کے لئے وقف کر دیا تب اب وہ اپنی زمین کا مالک نہ رہا اس لیے وقف کسی کی ملک نہیں ہوتا جیسا کہ فقہ کی کتابوں میں ہے *الوقف لا يملك*
اور مسجدیں اللہ کی ہیں کسی کی ذاتی ملک نہیں جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان عالی شان ہے *و ان المسجد لله* ( سورہ جن آیت ۱۸)
لھذا اگر وہ مسجد ہے اور یہ جانتے ہوے لوگ بیچنے کی بات کر رہے ہیں تو وہ سخت گنہگار ہیں آیندہ ایسی بات نہ کہیں ۔اگر وہ اپنے اس فعل سے باز نہ آئیں تو سارے مسلمان اس کا بائیکاٹ کریں خداے تعالی کا ارشاد ہے *اما ينسينك الشيطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين*( پارہ ۷ رکوع ١٤)
واللہ تعالی اعلم باالصواب
کتبہ محمد ضیاءالحق قادری فیض آبادی
- Get link
- X
- Other Apps